Thursday, May 21, 2020

Meyaar Media: Wasi Shah Poetry


کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

شاعر : وصی شاہ
____________________________________________________________________
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرصت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حِدّت سے دِہک سا جاتا

رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اِک تکیہ بنایا کرتی

میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زُلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا

جب بھی تو بندِ قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو تیرے حسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا


Monday, May 18, 2020

Meyaar E Adab Mumbai

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

شاعر : وصی شاہ

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرصت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حِدّت سے دِہک سا جاتا

رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اِک تکیہ بنایا کرتی

میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زُلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا

جب بھی تو بندِ قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو تیرے حسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا

Meyaar E Adab

کورونا کی کہانی:
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان

صحافت پر سیاست غالب ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ اخبار لکھنے اور پڑھنے والوں کے اعصاب پر سیاست ہی سوار رہتی ہے۔ قصے کہانیوں کو ہفتے میں ایک آدھ دن کسی کونے میں ایک گوشہ مل جاتا ہے۔ افسانہ نگار کے مقابلے ایماندار صحافی کا قلم حقائق کی ہتھکڑی میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔ بے ایمانوں کی بات اور ہے کہ شتر بے مہار کی مانند جہاں چاہتے منہ مارتے پھرتے ہیں ۔ حق و باطل کے ساتھ ملا کر مشکوک کردینا جن کا فرض منصبی بن چکا ہے۔ افسانہ نگار حقیقت کی پابندیوں سے نکل کر جہاں مرضی ہوجانے کے لیے آزاد ہوتا ہے لیکن اس آزادی کے استعمال میں بھی اسے محتاط رہنا پڑتا ہے۔ کئی ایسے خیالات اس کے ذہن میں آتے ہیں جنہیں وہ ناممکن کہہ کر جھٹک دیتا ہے۔ وہ ممکنات کے افق پر بہت دور نکل جانے کے باوجود ایک حد پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس سے باوجود ناقدین طرح طرح کی مین میخ نکالتے ہیں ۔ یہ کیسے ہوگیا؟ اس کا جواز کیا ہے؟ یہ تو ناممکن ہے وغیرہ وغیرہ لیکن کورونا نے ایسے حقائق اجاگر کیے ہیں کہ جس نے بڑے بڑے قلمکاروں کو اپنی دامن کی تنگی کا احساس دلادیا۔ کورونا کے سانحات نے ثابت کردیا کہ حقیقت کی دنیا تخیل سے کہیں زیادہ کشادہ ہوتی ہے۔ عارف کی اس ادھوری داستان کے درمیان ممبئی سے اتر پردیش جانے والے انصاف علی کی دل کو چھو لینے والی کہانی منظر عام پر آگئی۔ اس واقعہ کے اندر انسانی عزم و حوصلہ کے مقابلے مشکلات و مصائب بونے نظر آتے ہیں اور انسانی کامیابیوں کے ایسے امکانات روشن ہوتے ہیں کہ عام حالات میں جن کا تصور محال ہے۔ یکم اپریل کے آس پاس ممبئی کے مضافات بلکہ تھانہ ضلع کے وسئی میں رہائش پذیر انصاف علی نے اترپردیش میں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خاطر 1500 کلو میٹر پیدل چلنے کا ارادہ کیا ۔ لاک ڈاون کی رکاوٹوں کے سبب راستے میں اس کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دوکانوں کے بند ہونے کی وجہ سےکھانے اور پانی کے لیےکافی دقت پیش آئی لیکن ان کا سفر جاری رہا۔ 15 دن کی طویل مسافت کے بعد وہ پیدل چل کر ضلع شراوستی میں اپنے گاؤں کے قریب پہنچ گئے ۔ اس طرح انصاف علی گویا غلام محمد قاصر کے اس شعر کی عملی تفسیر بن گئے ؎
شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے
اس کے بعد کہانی میں جو دردناک موڑ آیا اس تفصیل انصاف علی کے گاوں مٹکھنوا کے گرام پردھان اگیارام یوں بیان کی کہ وہ 14 اپریل کو شراوستی پہنچے اور اپنے گھر سے تقریباً 10 کلو میٹر پہلے سسرال میں رک گئے۔ اس کے بعد جب وہ اپنے گھر کے لیے نکلے تو طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔27 اپریل کوجب علی شراوستی پہنچنے پر مقامی انتظامیہ نے 14 دنوں کے لیے انہیں اسکول میں قرنطینہ کی خاطر روانہ کردیا ۔ یہ اسکول ملہی پور پولس اسٹیشن کے تحت واقع ہے ۔شراوستی کے پولس سپرنٹنڈنٹ انوپ کمار سنگھ کے مطابق علی الصبح 7 بجے کے قریب جب وہ مٹکھنوا پہنچے تو مقامی اسکول میں شروعاتی جانچ انھیں ناشتہ دیا گیا۔ پانچ گھنٹے آرام کرنے کے بعد انھیں پیٹ کے اوپری حصے میں درد کی شکایت شروع ہوگئی اور تین بار الٹی ہوئی۔ اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کو بلایا جاتا، انصاف علی کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس طرح محنت ِ شاقہ سے اپنے گاؤں تو پہنچنے والے انصاف علی اپنے رشتہ داروں کے سے ملے بغیر بغیر دارِ فانی سے کوچ کر گئےاور پسماندگان میں اہلیہ سلمہ بیگم اور 6 سالہ بیٹے کو چھوڑ گئے ۔ ان پر قائم چاند پوری کا یہ شعر صادق آگیا کہ ؎
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند کچھ دُور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
انصاف علی کی یہ داستان گواہ ہے کہ انسان اپنے عزم و حوصلے سے دنیا کی بڑی سے بڑی مہم سر تو کرسکتا ہے لیکن مشیت کے آگے بے بس ہوجاتا ہے۔ انسان اپنوں میں جینا چاہتا ہے اور اپنوں کے اندر مرنا بھی چاہتا ہے۔ انصاف علی کی پہلی خواہش پوری نہ ہوسکی اس لیے کہ موت کا مقام اور وقت مقرر تھا لیکن دوسری تمنا ادھوری رہگئی ( بقول غالب ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے)۔ آخری ارمان سے قبل انصاف علی کا دم نکل گیا۔ راستے میں ان کے ساتھ یہ ناگہانی ہوجاتی تو کسے پتہ چلتا کہ انصاف علی کہاں کھو گئے؟ غالب والی بات ’نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کوئی مزار ہوتا ‘ والا معاملہ ہوجاتا اور اہل خانہ لامتناہی انتظار کے کرب میں مبتلا ہوجاتے۔ انصاف علی نے اپنے گاوں میں آکر آخری سانس لی۔ بظاہر ان کی موت جسم میں پانی کی کمی اور تھکاوٹ کی وجہ سے ہوئی لیکن چیف میڈیکل افسر اے پی بھارگو کا کہنا تھا کہ انھوں نے انصاف علی کے نمونے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال (لکھنؤ ) میں کورونا وائرس ٹیسٹ کے لیے بھیج دیئے ہیں ۔ اس رپورٹ کے بعد ہی انصاف علی کی موت کے اصل سبب معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔” ویسے ڈاکٹروں کے مطابق شروعاتی جانچ کے دوران کورونا وائرس کی کوئی علامت دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔آگے کیا ہوا نہیں پتہ بہت ممکن ہے انصاف علی کی رپورٹ منفی آئی ہو اور عام لوگوں کی طرح ان کی تدفین ہوئی ہو لیکن کورونا کے خوف نے اپنوں کو بھی پرایا کردیا۔ اس طرح کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ مدھیہ پردیش سے سامنے آیا۔
بھوپال اور اجین کے درمیان شولاجپور کے ایک شخص پر8اپریل کو فالج کا دورہ پڑا ۔ اسے شہر کے ملٹی کیئر اسپتال میں داخل کردیا گیا ۔ 10اپریل کو اس کے خون کا نمونہ کورونا کی جانچ کے لیے بھیجا گیا اور14 اپریل کو رپورٹ مثبت آگئی ۔ ۔ اس کے بعد اسے بھوپال کے چرایو دواخانے میں منتقل کیا گیا دورانِ علاج 20تاریخ کوموت ہوگئی ۔ انتظامیہ نے گھروالوں کو اطلاع دی تو اہلیہ ، بیٹا اور سالا اسپتال پہنچ گئے۔ بیٹے کو جب بتایا گیا کہ کورونا کے سبب لاش کو گاوں نہیں لے جایا جاسکتا تو وہ گھبرا گیا اور پلاسٹک میں لپٹی لاش کو ہاتھ تک نہیں لگانے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ وہاں موجود افسروں نے کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کا حوالہ دے کر اس کا ڈر دور کرنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا اور دور کھڑا ہوکر لاش کو دیکھتا رہا۔ افسران نے بتایا کہ لاش گھر کا عملہ بھی تو انسان ہے اس کے باوجود وہ آخری رسومات ادا کرنے لیے راضی نہیں ہوا ۔ اپنے بیٹے کو سمجھانے کے بجائے اس کی ماں نے بیراگڈھ تحصیلدار گلاب سنگھ بگھیل سے کہہ دیا کہ اس کو حفاظتی لباس پہنتے اتارتے نہیں آتا آپ کو آتا ہے۔ آپ ہی ہمارے بیٹے ہو۔ اہل خانہ نےانتطامیہ کو یہ کہہ کر آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دے دی اور خود50 میٹر دور سے چتا کو دیکھتے رہے۔ یہ بات کس کے تصور خیال میں تھی کہ کورونا سے موت کا ڈر بیوی اور بیٹے کے رشتوں کو بھی جلا کر راکھ کردے گا۔ ایسے میں بشر نواز کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
پیار کے بندھن خون کے رشتے ٹوٹ گئے خوابوں کی طرح جاگتی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کیا کیا کاروبار ہوئے

Khan Hasnain Aaqib

میرا ٹوٹا ہوا گھر تاج محل سے بھی حسین
ایک لڑکی اسے فردوسی بریں کہتی ہے 
حسنین عاقب

Thursday, May 7, 2020

Super Six Results


MEYAAR Association  Organised

 NAAT Competition
                                                         
FINAL RESULT

                                                                          

Super Six Performance of NAAT Competition

Teachers Category


Rank

Name of Teacher

Schools Name

YouTube Link
1
Uzma Firdous M Zeeshan
Shivaji Nagar Mun Urdu School No 4
2
Mohammad Ikram Qadri
Anglo Urdu High School Nandurbar
3
Ansari Shafique Ahmed Warsi
Shivaji Nagar Mun Urdu School No 9
4
Sadiya Nazeer Ahmed Dandoti
Zilla Parishad Urdu School Wadgeri Solapur
5
Shakir Ahmed Sabir Shah
Shivaji Nagar Mun Urdu School No 3
6
Khan Azra Abdul Rauf
Sanjay Nagar Mun Urdu School No 2


Super Six Performance of  NAAT Competition

Students Category


Rank

Name of Student

Schools Name

YouTube Link
1
Shaikh Sadiya Farid
Al Amaan English School Govandi
2
Ayesha Alauddin Shaikh
Awami Urdu High School & Jr College
3
Tooba Vaseem Ahmed Shaikh
Shivaji Nagar Mun Urdu School No 7
4
Reshma Abdul Qadir
Shivaji Nagar Mun Urdu School No 2
5
Zoya Abdul Rauf Khan
Anjuman Islam M F Urdu High School Turbhe
6
Mohammad Ziyan
Gayak Rafi Nagra Mun Urdu School No 1




Best Video Views Winner



Name of Teacher

Schools Name

YouTube Link


Views

Mohammad Ikram Qadri

Anglo Urdu High School Nandurbar


3737


Name of Student

Schools Name

YouTube Link


Views

Ansari Sadia Parveen

Madni Urdu Primary School Jogeshwari


2359







Mr.Nasir Yusuf   
(Journalist,Dramatist,Director,Singer & Composer) 

   
Mrs.Rehana Surve 
(I/c Inspector- Schools Ret. MCGM)


Ms. Shaheen Shaikh
(Vice Principal Awami Urdu High School & Jr College)

                              
                                                              
                         MEYAAR Association.

                      Reg No : G.B.B.S.D 2026/2019








Super Six Certificate



Congratulation to all Winners!!!



Best Video Views Winners



Super Six Performance Winners 
Teachers




Super Six Performance Winners 








Thanks to Judges

MEYAAR ASSOCIATION (Reg)

Naat Competiton For Teachers & Students During LockDown Period in May 2020


                    On behalf of MEYAAR Association, we’d like to thank you for your dedication and skill when it came to the judging of our NAAT Competition Contest 2020. Without your generosity, knowledge and patience, this NAAT Competition would not have gone as smoothly as it has. Thank you for volunteering your services, especially during Lockdown Period A Fight Against COVID-19.
                   Thank you again for taking to judge our Teachers & Students. We realize that it might have come as an imposition, so we are enclosing an extra bonus for your troubles. Please use us as a future contact or reference for any of your future appointments. Thank you so much.
Sincerely.
Team MEYAAR


                             Mr.Nasir Yusuf
     Teacher, Journalist,Dramatist,Director,Singer & Composer,Anchor
_______________________________________________________________________________________


                 Mrs.Surve Rehana Salim
                     I/c Inspector (Schools) Ret.
_______________________________________________________________________________________






             Ms.Khan Shahina A Tawwab                                       Vice Principal, Awami Urdu High School & Jr College


Participation Certificate



Click On Link to Download Certificate of Participation







Judge Sheet - NAAT Competiton




Wednesday, May 6, 2020

Participant Students - NAAT Competition

MEYAAR Association's
NAAT Competition For Students
LIST OF PARTICIPANT STUDENTS
Sr No Name of Participant School Certificate No
1 Momin Arzoo Shahid Abdullah Patel Urdu School MM1221
2 Sayyed Farhan Alam Shivaji Nagar Mun Urdu School No 8 MM1222
3 Khan Husna Shaheen Deonar Colony Mun Urdu School No 2 MM1223
4 Sayyed Samreen Mujtaba Deonar Colony Mun Urdu School No 2 MM1224
5 Mohammad Uzair Parbhani MM1225
6 Ayesha Alauddin Awami Jr College Govandi MM1226
7 Shaikh Aliya Hameeda Gayak Rafi Nagar Urdu School No 2 MM1227
8 Kehkashan Afroz Shivaji Nagar Mun Urdu School No 9 MM1228
9 Iram Ayyub Khan Shivaji Nagar Mun Urdu School No 2 MM1229
10 Idrisi Hakim Ahmed Sanjay Nagar Mun Urdu School No 2 MM1230
11 Alvi Khalood Al Amaan English School MM1231
12 Mohammad Ziyan Gayak Rafi Nagar Urdu School No 1 MM1232
13 Shahjahan Shaikh Deonar Colony Mun Urdu School No 1 MM1233
14 Iqra Bashir Bagwan Zilla Parishad Urdu School Wadgeri MM1234
15 Sahil Sharif Shivaji Nagar Mun Urdu School No 3 MM1235
16 Thakur Saima Madni Urdu Primary School MM1236
17 Zubiya Saint Judes Eng Primary School MM1237
18 Samani Shifa Madni Urdu High School MM1238
19 Reshma Abdul Qadir Shivaji Nagar Urdu School No 2 MM1239
20 Zoya Inamdar Zarimari Municipal Urdu School MM1240
21 Ansari Umair Anees Madni Urdu Primary School MM1241
22 Molapia Sana Juned Madni Urdu Primary School MM1242
23 Ansari Sadia Parveen Madni Urdu Primary School MM1243
24 Aasiya Zarimari Municipal Urdu School MM1244
25 Shaikh Namra Karim Shivaji Nagar Mun Urdu School No 7 MM1245
26 Sayyed Sabrin Bano Deonar Colony Mun Urdu School No 2 MM1246
27 Rehan Javed Khan Saint Judes Eng Primary School MM1247
28 Aafrin Abbas Ali Deonar Colony Mun Urdu School No 1 MM1248
29 Khan Sofia Khatoon Deonar Colony Mun Urdu School No 1 MM1249
30 Shaikh Abdur Rehman Deonar Colony Mun Urdu School No 1 MM1250
31 Manzoor Izhar Shaikh Deonar Colony Mun Urdu School No 1 MM1251
32 Khan Samira Zubair Madni Urdu Primary School MM1252
33 Shaikh Sadiya Farid Al Amaan English School MM1253
34 Shaikh Tasneem Jafer Madni Urdu Primary School MM1254
35 Umme Shifa Shivaji Nagar Mun Urdu School No 9 MM1255
36 Raqeeba M Sabir Shivaji Nagar Mun Urdu School No 9 MM1256
37 Khan Hajra Khatoon Deonar Colony Mun Urdu School No 2 MM1257
38 Khan Afsana Mithanagar Mumbai Public School MM1258
39 Aasiya M Umair Madni Urdu Primary School MM1259
40 Shaikh Tooba Vaseem A Shivaji Nagar Mun Urdu School No 2 MM1260
41 Shaikh Samiha Farid Al Amaan English School MM1261
42 Selia Arwa Sajid Madni Urdu Primary School MM1262
43 Qureshi Muskan M Yasin Sanjay Nagar Mun Urdu School No 2 MM1263
44 Khan Zoya Abdul Rauf Anjuman Islam Mustafa Faki Urdu High School Turbhe MM1264
45 Momin Khatijatul Kubra Madni Urdu Primary School MM1265