Friday, July 17, 2020

Juma Nama : Aala Zarfi Aur Kushada Dili Ke Sath Waba Ka Muqabla by Dr. Saleem Khan

جمعہ نامہ:اعلیٰ ظرفی اورکشادہ دلی کےساتھ وباء کامقابلہ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

کورونا وبا کی بابت کچھ لوگ بہت زیادہ احتیاط پر زور دیتے ہیں تو کچھ تقدیر پر قناعت کے قائل ہیں ۔ صحابہ کے درمیان بھی 18 ہجری کے اندر بپا ہونے والےعمو اس کی وباء کے دوران ایسا اختلاف رونما ہوا تھا لیکن جس طرح آج کل احتیاط والوں کو بزدل اور مخالفین کو احمق سمجھا جاتا ہے ایسی کیفیت وہاں نہیں تھی۔ دورِ فاروقی میں جب شام، مصر اور عراق کے اندر وباپھیلی توحضرت ابوعبیدہؓ کی قیادت میں مسلمانوں کی بہت بڑی فوج مقیم تھی۔امیر المومنین نے اپنی فوج کی خبر گیری کےلیے خود رختِ سفرباندھا اوروہاں جاکر مہاجرین و انصار کے ساتھ مشورہ فرمایا۔ رائیں مختلف تھیں لیکن مہاجرین فتح نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ کا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ سےاگلے دن کوچ کا اعلان کروادیا۔ اس پرحضرت ابو عبیدہؓ نے کہا:’’ اے عمر ! تقدیر الٰہی سے بھاگتے ہو‘‘ ۔ توجواب دیا :’’ ہاں تقدیر الٰہی سے بھاگتا ہوں مگر بھاگتا بھی تقدیر الٰہی کی طرف ہوں‘‘ اور مدینہ لوٹ گئے لیکن اپنے سپہ سالار کو معزول نہیں کیا ۔ کشادہ دلی کے ساتھ اختلاف کو انگیز کرنے کی یہ بہترین مثال ہے۔

مدینہ آکر ابو عبیدہؓ کو بلوا بھیجا تو انہیں خیال ہوا وبا کے خوف سے بلایا جارہا ہے۔ جواب دیا جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو گا۔ میں مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لئے یہاں سے ٹل نہیں سکتا۔ حضرت عمرؓ خط پڑھ کر روئے اور لکھا کہ ’’ فوج جہاں اتری ہے وہ نشیب اور مرطوب جگہ ہے، اس لئے کوئی عمدہ مقام تجویز کر کے وہاں اٹھ جاؤ۔‘‘اس حکم کی تعمیل میں حضرت ابوعبیدہؓ نے صحت افزاءجابیہ میں جا کر مقام کیا ۔ یہ اطاعت ہے کہ جتنا احتیاط ضروری تھا کیا۔ نہ ہر بات کی تائید اورنہ ہر حکم سے انکار کیا ۔جابیہ میں حضرت ابو عبیدہؓ بیمار ہوئے تو انتقال سے قبل معاذ بن جبلؓ کو جانشین مقرر کیا ۔ اس وقت حضرت عمرو بن العاص ؓ نے کہا کہ یہ وبا بنی اسرائیل پر مصر میں نازل ہونے والی بلاوں میں سے ہے اس لئے یہاں سے بھاگ چلنا چاہئے۔ حضرت معاذؓ نے سنا تو منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا کہ یہ وباء بلا نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہے۔ خطبہ کے بعد خیمہ میں آئے تو بیٹے کو بیمار پایا۔ نہایت استقلال کے ساتھ کہا: ’’ اے فرزند! یہ اللہ کی طرف سے ہے، دیکھ شبہہ میں نہ پڑنا‘‘ بیٹے نے جواب دیا: ’’ اللہ نے چاہا تو آپ مجھ کو صابر پائیں گے‘‘ یہ کہہ کر انتقال کرگئے۔ حضرت معاذؓ بیٹے کو دفنا کر آئے تو خود بیمار پڑے۔انہوں اختلاف رکھنے والے عمرو بن العاصؓ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ۔ اس کو اعلیٰ ظرفی کہتے ہیں ۔

حضرت عمرو بن العاصؓ نے کمان سنبھالنے کے بعد خطاب کرکے کہا وبا آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ اس لئے تمام فوج کو پہاڑوں پر جا رہنا چاہیے۔ ان کی رائےکو بعض صحابہؓ نے مسترد کیا تاہم حضرت عمروؓ نے اپنی رائے پر عمل کیااور فوج ان کے حکم کے تعمیل میں پہاڑوں پر پھیل گئی ۔ سوشیل ڈسٹنسنگ سے وباء کا زور ٹوٹ گیا۔ اس وباءمیں 25 ہزار مسلمان جن میں حضرات ابوعبیدہؓ، معاذ بن جبلؓ، یزید بن ابی سفیانؓ، حارث بن ہشامؓ، سہیل بن عمروؓاور عتبہ بن سہیلؓ جیسے بڑے صحابہ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا لیکن وہ کسی سازشی تھیوری کا شکار نہیں ہوئے ۔ قیامت خیز وباء نےاسلامی فتوحات کوعارضی طورپرروک دیا ۔ ہزاروں بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں۔ حضرت عمرؓ نے ان حالات میں پھرسے حضرت علیؓ کو مدینہ میں جانشین بناکرشام کاقصد کیا۔ اور اکثر اضلاع میں قیام کر کے فوج کی تنخواہیں اور وبائی مہلوکین کے وارثین کو میراث دلائی۔آسمانی آفات ووباء کا مقابلہ اس طرح میدان عمل میں اتر کیا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے جس اعلیٰ ظرفی ، کشادہ دلی ، جوانمردی اور حکمت و فراست کے ساتھ وبا کا مقابلہ کیا وہ تاقیامت عالمِ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ ہم لوگ حضرت عمر ؓ سے متعلق گاندھی جی کا مقولہ تو خوب نقل کرتے ہیں لیکن ان کی پیروی کم ہی کرتے ہیں؟

Thursday, July 9, 2020

Koi Chara Nahi Dua Ke Siwa, Koi Sunta Nahi Khuda Ke Siwa by Dr. Saleem Khan

جمعہ نامہ : کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا ، کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا 
ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:  ’’اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے‘‘نبی اکرم ﷺ نے  اس آیت کی  تفسیر میں:’ دعا ہی عبادت ہے‘ کہہ کر اسے  تلاوت فرمایا۔  نبی کریم  ﷺ کا فرمان ہے : ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ،وہ ہررات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا پر آکر فرماتاہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں‘‘۔ رات کے آخری پہر کی  تسبیح و مناجات بندۂ مومن  ا کو اس  مقام  بلند تک پہنچا دیتی ہے کہ وہ  رب کائنات سے نہایت  قریب ہوجاتا ہے  اور سرگوشی کرنے لگتا ہے۔ بندے کی  اس  حالت پر  علامہ  اقبال کے  یہ شعر صادق آتا ہے کہ   ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی اپنے بیٹے کے حق میں دعا ۔ اس حدیث میں سب سے پہلے مظلوم کو یقین دہانی کرائی گئی  ہےکہ اس کی دعا ضرور قبول ہوگی۔  انسان جب کسی ظالم کی تعذیب کا شکار ہوتا ہے تو  وہ سب سے پہلے دنیاوی سہاروں کی جانب لپکتا ہے لیکن جب ان سب سے مایوس ہوجاتا ہے تو بالآخر اپنے خالق و مالک کے آگے دست دعا پھیلا دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اس کو ظلم و ستم سے نجات مل جائے ۔  مشیت الٰہی کے تحت جب اس میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کا ایمان متزلزل ہوجاتا ہے۔ وہ  شیطانی وسوسوں کا شکار ہوکر طرح طرح کے گمان کرنے لگتا ہے ۔   ایسے میں اسے یاد رکھنا چاہیے کہ کائنات کا خالق منصف بھی ہے۔  اس کا انصاف دنیا سے لے کر  آخرت تک محیط ہے۔ کبھی نمرود پر ایک معمولی  مچھر کے ذریعہ سزا  دی جاتی ہے تو کبھی  فرعون غرقاب کردیا جاتا ہے فی الحال کورونا  نے  اچھے اچھوں کے اقتدار  کو ہلا  دیا ہے مگریوگی ی رسوائی کے لیےتووکاس  دوبے کافی ہو گیا ۔ یہ تو  اس دنیا کی معمولی سزا ہے ،دائمی جہنم ظالموں  کا آخری ٹھکانہ  ہے ۔
  نبی پاک ﷺ نےحضرت  معاذ ؓ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجتے ہوئے ہدایت فرمائی:’’ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘‘۔اپنے جلیل القدر صحابی کو ایک خاص موقع پر یہ تلقین اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ حکمراں کے لیے اس  خطرے کی  سنگینی  زیادہ  ہوتی  ہے۔  مظلوم کی داد رسی بلا تفریق مذہب و ملت ہوتی  ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’ مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے، چاہے فاجر ہی کیوں نہ ہو، فجور(کا خمیازہ) اسی کی جان پر ہوگا‘‘۔دربار الہی میں ظلم وزیادتی  کی سزا دنیا اور آخرت دونوں جگہ مل کررہتی ہے۔فرمانِ  نبی ﷺ ہے:’’ ظلم اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا مرتکب زیادہ لائق ہے کہ اس کو اللہ کی جانب سے دنیا میں بھی جلد سزا دی جائے اور آخرت کے لئے بھی اسے باقی رکھا جائے‘‘ ۔ اس حدیث میں کشمیر و فلسطین کے مظلومین اور ایغور و روہنگیا ئی  مسلمانوں کی خاطر ڈھارس کا سامان ہے۔ 
نبی ٔ مکرم   ﷺ کا فرمان ہے:’’اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ تعالی دعا کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا ،  اللہ  اس بات سے شرم آتی ہے کہ جب کوئی آدمی اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کو ناکام و نامراد واپس کر دے‘‘۔قبولیت  دعا اس طرح ہوتی ہے کہ :’’جب بھی کوئی مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ یا قطع رحمی نہ ہو، تو اسےاللہ ربّ العزت تین  میں سے ایک نوازتے ہیں: دعا کو قبول فرما لیتے ہیں یا آخرت میں ذخیرہ کردیتے ہیں اور یا اس جیسی کوئی برائی ٹال دیتے ہیں۔ صحابہؓ نے کہا: پھر تو ہم بکثرت دعا کریں گے۔ تو نبیؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ بخشنے والا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے وہی دینے والاہے‘‘۔اللہ تعالیٰ ہماری دعاوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

Sunday, July 5, 2020

COVID-19 Awareness - Quiz Result

MEYAAR Association Organised

COVID-19 Awareness Quiz

Final Results


Category 1-Primary Schools Students

Rank

Students Name

School


Class
1
Swara Chavhan
Goregaon Transit Camp MPS
5th
2
Khan Farheen Zeeshan
A.K.I Urdu Primary School
5th
3
Krish Ganesh Mendon
St John’s High Pri School
5th

Category 2-Upper Primary Schools Students

Rank

Students Name

School


Class
1
Ayush Pradeep Mishra
Pahadi  High School
6th
2
Arohan Ajeet Tijore
St Joseph High School Panvel
7th
3
Shaikh Tooba Vaseem Ahmed
Shivaji Nagar Urdu School No 7
7th

Category 3-High Schools Students

Rank

Students Name

School


Class
1
Asma Shaikh Alauddin
Awami Girls High School
10th
2
Arya Vikas Sarfare
Parle Tilak Vidyalaya
10th
3
Shiddat
HMMS
9th


Category 4-Intermediate & Above

Rank

Students Name

School


Class
1
Pranav Hotwani
VES College
FYBCOM
2
Shaikh Uzma Javed
Awami Girls Jr College
FYJC
3
Shabina Khan
Awami Girls Jr College
FYJC

                                                                     
                                 For MEYAAR Association.
                                             Reg No : G.B.B.S.D 2026/2019

Thursday, July 2, 2020

Juma Nama : Azabe Duniya, Muhlik Na Ho to Mauqa Hai by Dr. Saleem Khan

جمعہ نامہ : عذابِ دنیا، مہلک نہ ہو تو موقع ہے
ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے :’’کیا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہے اس کے مثل ہوجائے گا جو فاسق ہے؟ ‘‘ اس سوال کا لازمی جواب ہے کہ ’’ ہرگز نہیں دونوں برابر نہیں ہوسکتے‘‘۔ ان کا  انجام ایک دوسرے سےمختلف ہے  کیونکہ  ’’ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں ان کے لئے آرام کرنے کی جنتیں ہیں جو ان کے اعمال کی جزا ہیں‘‘۔ یہاں  ایمان کے ساتھ عمل کا اضافہ کردیا گیا اورایمان  کے بعد ایمان   عمل کو جنت کی شرط قرار دیا  گیا ۔ یعنی اہل ایمان  اور فاسق کے انجام میں  حد فاصل  ’اعمال  خیر‘ہوگا ۔ اس کے آگے فاسقین کا  انجام بھی  بتایا گیا ہے کہ :’’ اور جن لوگوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکاناجہنم ہے کہ جب اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ پلٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اس جہنمّ کی آگ کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے ‘‘۔ فاسق  چونکہ زبان سےسے  اقرارکرنے کے بعد  عملاً انکار کرتا ہے اس لیے اس کے انجام کو تکذیب سے جوڑ دیا گیا ۔ اس کا مطلب یہ اہل ایمان کو چاہیے کہ  عمل سے غافل  نہ ہوں اور فاسقین کےلیے اپنے ایمان کے عملی انکار   سے باز آنا لازم ہے ۔ 
مذکورہ بالا آیت میں دوزخ  کے عذاب کی خصوصیت یہ  بتائی گئی ہے کہ جب جہنمی  اس سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو انہیں دوبارہ پلٹا دیا جائے گا یعنی اس عذاب  کی نوعیت دائمی ہوگی۔  اس کے بعد والی آیت میں فرمایا :’’اور ہم یقینا بڑے عذاب سے پہلے انہیں معمولی عذاب کا مزہ چکھائیں گے ‘‘۔ یعنی جہنم کا بڑا عذاب تو قیامت میں حساب کتاب کے بعد دیا جائے گا لیکن اس سے قبل اس دنیا میں بھی  چھوٹی موٹی تعذیب سے گزارہ جائے گا  اور اس کی غرض و غایت  یہ بتائی  گئی ہے  ’’تاکہ شاید اسی طرح راہ راست پر پلٹ آئیں‘‘۔گویا انسانوں کو  اس  معمولی عذاب میں  خوابِ  غفلت سے بیدار کرنے یا خبردار کرنے کی خاطر  مبتلا کیا جائے  گاتاکہ  لوگ اس  سے عبرت پکڑ کر اپنا رویہ درست کرلیں  ۔ ایسے لوگوں  کے لیے یہ  نعمت بن جائے گا۔ اس کے برعکس جو اس کو نظر انداز کردیں گے ان کی بابت فرمایا :’’ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے آیات ِالہٰیہ کی یاد دلائی جائے اور پھر اس سے اعراض کرے تو ہم یقینا مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں‘‘۔  یہ آیت دنیا اور آخرت کے عذاب کا فرق اور کورونا کی حقیقت   واضح کرتی ہے ۔ 
دنیوی عذاب کی بابت ارشادِ قرآنی  ہے :کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، ‘‘۔ انسان  جدید آلات کی مدد سے سمندری  طوفان  کی سمت اور رفتار کا پتہ لگا کر احتیاطی تدابیرتو کر سکتا ہے لیکن اسے  روک دینا  کسی  کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے۔ اسی طرح زلزلہ کے  مرکزہ اور شدت  کی معلومات کا اندازہ تو ہوجاتا  ہے لیکن  اسے آنے سے روکنا تو دور وہ کب آئے گا اور کتنی تباہی لائے گا  ؟ اس کا پتہ لگانا بھی انسانوں کے بس میں نہیں ہے۔یہ آفاتِ ارضی و سماوی انسان کے غر ور کو پارہ پارہ  کرکے اسے اپنے خالق و مالک کے آگے خود سپردگی کی جانب متوجہ کردیتی ہے۔  آگے انسان آزاد   چاہے تو پلٹ   آئے یا دائمی  تباہی کی جانب  بگ ٹٹ دوڑتا چلاجائے۔
 مشیت الٰہی انسانوں  کے ذریعہ بھی عذاب مسلط  کرتی  ہے۔فرمان قرآنی ہے  :’’ تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ‘‘۔ یعنی لوگوں کو ایک دوسرے برسرِ پیکار ہوجانا بھی عذاب کی ایک شکل ہے۔ چین اور ہندوستان کی  سرکاریں  ایغور اور کشمیریوں  کے خلاف ریشہ دوانیاں کا اشتراک   کرتی تھیں لیکن اب گلوان میں ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار ہیں  ۔  مسلمانوں کے مشترکہ دشمنوں کی  آپسی چپقلش ان کے لیے عذابِ جان بن گئی  ہے فرمایا :’’  دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ‘‘۔  اللہ کی  یہ نشانیاں عذاب بن کر حقائق کا پردہ فاش کرکے  غافل  انسانوں کو بڑے عذاب سے خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ  اتمام ِ حجت کا کام بھی کردیتی ہیں ۔  اللہ تعالیٰ بنی نوعِ انسانی کوکورونا اور چائنا جیسی تنبیہات سے راہِ راست کی توفیق عطا فرمائے ۔

Thursday, June 25, 2020

Juma Nama: Duniya O Akhirat Ki Bhag Daud by Dr Saleem Khan

جمعہ نامہ : دنیا  و آخرت  کی بھاگ دوڑ
ڈاکٹر سلیم خان
امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ  کا قول ہے’’ دنیا پیٹھ پھیرکر بھاگ  رہی ہے اور آخرت سامنے آرہی ہے ‘‘،  یہ دنیا  و آخرت کی ایسی عکاسی  ہے کہ  جس کاا نکار کسی فردِ بشر کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ زندگی کی ریت گھڑی کا ایک  ذرہ ہر لمحہ نیچے گر  جاتا ہے اور انسان ہرلحظہ موت سے قریب تر ہوتاجاتا ہے۔ اس معاملے میں  شاہ و گدا سب بے اختیار ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت اس  عمل میں خلل نہیں ڈال سکتی۔ زندگی اور موت کایہی   دلچسپ اور عجیب و غریب رشتہ  ہے ۔موت سے قبل عرصۂ حیات میں انسان کو  اپنا سمتِ سفر طے کرنے کی  مکمل آزادی ہے۔  وہ چاہے تو بھاگنے والی کے پیچھے بھاگے یا آنے والی کی طرف دوڑے ۔ اس بابت یہ رہنمائی  بھی دی  گئی ہے کہ  ’’ اور دنیا وآخرت  ہر ایک کے بیٹے ہیں ، تو تم آخرت کے بیٹے بنو ،دنیاکے بیٹے نہ بنو‘‘۔ یعنی دنیاوی عیش طرب کے بندے بن کر  اس  کو اپنا مائی باپ نہ بنالو بلکہ آخرت کی کامیابی کو اپنا مقصد حیات بناو۔ 
فلاح آخرت کو  اپنا مطمح نظر بنانے والے اہل ایمان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی  و کامرانی کی جانب ذوق و شوق سے رواں دواں ہوتے ہیں اور ہنستے کھیلتے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔  دنیا ان کا تعاقب کرتی رہتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کا مقدر کررکھا ہے وہ بھی انہیں حاصل ہوجاتا ہے دنیائےفانی  ان کا کچھ نہیں بگاڑپاتی ۔ اس کے برعکس جو لوگ دنیا وی کامیابی کو اپنا نصب العین بناکر اخروی نجات  سے غافل ہوجاتے ہیں انہیں ملک الموت  پیچھے سے دھر دبوچ   کرآخرت کی دہلیز پر لے جاتا ہے اور وہ کفِ افسوس ملتے ہوئے بادلِ ناخواستہ اس مقام پر پہنچا دیئے جاتے ہیں جس سے وہ عمر بھر بھاگتے رہے اور اس کی کوئی تیاری نہیں کی۔   غفلت کا شکار عالم انسانیت کو خبردار کرتے  ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہ ُ   فرماتے ہیں  ’’آج عمل کا دن ہے  کوئی حساب وکتاب نہیں،اور کل حساب کا دن ہوگا عمل کا نہیں ‘‘ ۔ یعنی مہلت عمل کے  خاتمہ پر اعمال کی سزا یا جزا سے دوچار ہونا ہی پڑےگا۔ 
دنیاوی کا میابی کو اپنی زندگی کا مقصد اس لیے بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ عالم شہود میں ہے اور آخرت عالم غیب میں ہے ۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان دنیا  کی چکا چوند کے فریب میں مبتلاء ہوکر اس کی قدرو قیمت کے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہو کر اس  کے پیچھے بگ ٹٹ    بھاگتا  رہتا ہے۔ وہ دنیا جس کی بابت  بکری کے مردہ بچہ کا کان  پکڑ کر نبیٔ پاک ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جو بکری کے اس چھوٹے کانوں والے مردہ  بچہ کو ایک درہم میں خریدنے کے لئے آمادہ وتیار ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ہم بکری کے اس مردہ بچہ کو جس کے کان بھی چھوٹے ہیں ایک درہم میں تو کیا مفت لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں  اور اس کو ہم لے کر کیا کریں گے ؟‘‘
  آپ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا : کیا تم اس کو لینا گوارہ کروگے؟ صحابہ ؓ نے کہا اے  اللہ کے رسول ﷺ  اللہ کی قسم  اگر یہ زندہ ہوتا   تب بھی  عیب دار تھا کیونکہ اس کے دونوں کان چھوٹے ہیں  اب  جب کہ  وہ مرچکا ہے تو ہم اس کو کیسے خریدنا گوارہ کریں گے‘‘، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم  تمہارے نزدیک  اس چھوٹے کانوں  والے  بکری کے  مردہ بچہ کی جو حیثیت ہے اللہ کے یہاں دنیاکی حیثیت اس سے بھی کمتر ہے ‘‘۔جس دنیا کے پیچھے پڑ کر انسان اپنی  آخرت  بگاڑ لیتا ہے ان کا  موازنہ کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا’’اللہ کی قسم!آخرت (کے مقابلے) میں دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں  کہ جیسے کوئی شخص اپنی ایک انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے وہ (انگلی) اس میں سے کیا (نکال کر) لاتی ہے‘‘۔سوال یہ ہے کہ دنیائے فانی کی حیثیت کو جان لینے کے بعد اس کے حصول کی  خاطر اپنے آپ کو آخرت کے  دائمی خسارے میں ڈال لینا کیسا ہے؟  آخرت پر دنیا  کی  فوقیت کا اعلان کرنے والا مسلمان تو شاید  ہی کوئی ہومگر عملاً  آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے والے کم ہی ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ’’اگر اللہ کے یہاں دنیا کی حیثیت  مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالی کافر کو اس دنیا سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہیں کرتا‘‘۔

Saturday, June 20, 2020

Our Guide



Khan Hasnain Aaqib
Member of Balbharti Pune, Translator
Moderator,Writer, Poet

Thursday, June 11, 2020

Juma Nama : Khud Agahi Hai Khuda Shanasi by Dr. Saleem Khan

جمعہ نامہ: خود آگہی ہے خدا شناسی 

ڈاکٹر سلیم خان

خالق کائنات اپنی کتاب میں اولادِ آدم کو ابتدائے آفرینش کا ایک عہد یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اور (یاد کیجئے!)
 جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا:) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘‘ رب ذوالجلال جب  ازخود سوال کرے تو کس کی مجال ہے کہ انکار کا خیال بھی دل میں لائے۔   اس لیے سب ایک آواز میں : ’’ بول اٹھے: کیوں نہیں! (تو ہی ہمارا رب ہے،) ہم گواہی دیتے ہیں‘‘۔ اس عہد و پیمان کی غرض و غایت  یہ بیان کی گئی کہ:’’ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے‘‘۔  عہد الست کی خوبی یہ ہے کہ اس سے  بنی نوعِ انسان کو   عظمت و بلندی کا ایک نادر  موقع بھی عطا کیا گیا   اور  ساتھ ہی اس کو ایک  خطرے سے  بھی  وابستہ کردیاگیا  ۔ ارشادِ ربانی ہے  :’’ بیشک ہم نے (اِطاعت یا خلافت  کی) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس (بوجھ) کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ (اپنی جان پر) بڑی زیادتی کرنے والا (ادائیگئ امانت میں کوتاہی کے انجام سے) بڑا بے خبر و نادان ہے،‘‘۔  اس سے پتہ چلتا ہے انسانی فطرت  چیلنج کو قبول کرنے والی ۔ وہ اگر پنی فطرت سے برگشتہ نہ  ہوتو خطرات  سے گھبرانے کےبجائےنبردآزما ہونےکو ترجیح دیتا ہے ۔
زمین پر اللہ کے خلیفہ کی نگاہ  اپنی کمزوریوں کے بجائے رحمت الٰہی کی جانب نہیں  ہوتی   تو وہ کبھی بھی  اس بارِ امانت کو اٹھانے کی جرأت نہیں کرپاتا ۔  اسے یقین تھا کہ جو عظیم   ہستی کی   اس  کو اس  ذمہ داری  پر فائز فر ما رہی ہے وہ اس کو ادائیگی کے قابل بھی بنائے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ خدائے رحمٰن و رحیم نے اپنے بندے کو اس کے گمان و توقع سے   زیادہ نوازہ ۔ ارشادِ قرآنی  ہے:’’یقیناً انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت گزرا جبکہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا‘‘۔ یہ عہد الست کے بعد جہانِ فانی  میں آنے تک  کا طویل  زمانہ  ہے ۔ اس کے بعد مقصدِ تخلیق  یعنی آزمائش کا ذکر  اس طرح کیا گیا کہ  : ’’بے شک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کیلئے پیدا کیا ‘‘۔اس  کے بعد ان صفات کو بیان کیا گیا جو اس  امتحان میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لیے عطا کی گئیں  یعنی’’ اس کو سننے و دیکھنے والا بنایا ‘‘ ۔ ان صلاحیتوں کے بعد اس پر مزید یہ احسان کیا گیا  کہ :’’ ہم نے اسے راہ دکھائی‘‘ اور  اس کے ساتھ اختیار و عمل کی آزادی سے نواز کر فرمایا’’  اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا‘‘۔   یہ حسنِ تخلیق ہے کہ دیگر مخلوقات کے مقابلے انسانی  امتیازکو  خالق کائنات نے اس کی آزمائش   کا سامان بھی بنادیا ۔دنیوی  امتحان میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کی خاطر’’ انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ‘‘ ۔
 فرشتوں پر آدم کی  برتری کا منظر یہ ہے کہ ’’( وہ وقت یاد کرو ) جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں ، سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں ، پھر اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑو‘‘۔  دنیا میں انسانی عز و شرف کو اس طرح بیان کیا کہ ’’اور یقینا ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی و تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اوراپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ‘‘۔ طبعی برتری کے بعد روحانی احسان کا ذکر اس طرح فرمایا کہ ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا ۔پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی‘‘۔  اس عظیم داخلی نوازش کے بعد خارج میں  ہدایت کے لیے انبیائے کرام کا سلسلہ شروع کرکے ان کے ذریعہ اعلان کرایا گیا کہ ’’ اے لوگو ! اپنے پروردگار کی ہی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘ اور کامیابی کا  یہ نسخۂ کیمیا عطا کیا گیا کہ :’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کرو، وہ تمہارے لئے تمہارےاعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ تمہارے لئے بخش دے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے تو بےشک وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہوا‘‘۔  اس قدر احسانات کے بعد تو ہمیں اپنے آپ کو  ابدی جنت کا مستحق بنا ہی لینا چاہیے ۔

Monday, June 8, 2020

Mujtaba Husain Ek Munfarid Shakhsiyat : Kausar Hayat, Aurangabad

*مجتبیٰ حسین ایک منفرد شخصیت* 

 *کوثر حیات، اورنگ آباد* 


الگ تھا تیرا انداز سب سے الگ تھا تیرا مزاج بھی 
تو  غالب  نہ  تھا فقط تو  سب پر غالب ہے آج بھی

مجتبیٰ حسین طنز و مزاح نگار'  کالم نگار 'خاکہ نگار ' سفر نامہ نگار اور انشائیہ نگار تھے ساتھ ہی ان کی تحریر میں واقعہ نگاری اور مرقع کشی میں ان کا کمال فن عروج پر نظر آتا۔
ان کی ادبی زندگی چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ 
مجتبیٰ حسین 15 جولائی 1936 میں ضلع گلبرگہ (کرناٹک) میں پیدا ہوئے ۔1956 میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی ۔اے کیا۔1962 میں محکمہ اطلاعات میں ملازمت کا آغاز کیا۔ 1972 میں دلی میں گجرال کمیٹی کے ریسرچ شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ دلی میں مختلف محکموں میں ملازمت کے بعد 1992ء میں ریٹائر ہوئے اور بعد ازاں مستقلاً حیدرآباد میں اپنی اصل رہائش گاہ کو لوٹ آئے اور تاوفات ان کا قیام حیدرآباد میں رہا۔
انہوں نے کالم نگاری سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔روزنامہ ’’سیاست‘‘ کے لئے وہ برسوں روزانہ کالم لکھتے رہے۔
مجتبیٰ حسین کے فن کی ایک عمومی خوبی یہ ہے کہ وہ عام سنجیدہ مظاہر میں ایک مَضحک پہلو ایک دیکھ لیتے ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی نے مجتبیٰ حسین کی جن تین خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ" قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ اُن کے ہاں تکرار کا عمل نہیں ہے اور اُن کی تحریروں میں تر و تازگی ہوتی ہے تو میری رائے میں ان تینوں خوبیوں کا راز اُن کے ذہن کی زر خیزی اور طباعی میں مضمر ہے۔"
مجتبی حسین کی تحریر میں ہندوستان کی تہذیب ' ثقافت' مشرقی نظریات  مزاح کے ساتھ ملتے ہیں ان کی تحریریں شگفتہ دلکش اور پر مزاح مگر اعتدال پسندی پر مبنی ہےان کی یہ خوبیاں اور فن ہی انہیں ممتاز بناتی ہیں۔مجتبیٰ حسین کے انشائیوں میں مزاح کا اسلوب غالب ہے۔ان کے یہاں طنز کا پہلو کم دیکھنے کو ملتا ہے۔مجتبیٰ حسین کے اشائیوں میں معاشرے کے مجبور وبے بس اور دبے کچلے انسانوں کے تئیں دردمندی اور ہمدردی کا احساس دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے انشائیہ’’یہ رکشا والے‘‘
قصہ داڑھ کے درد کا‘‘مجتبیٰ حسین کا ایک دلچسپ اور مشہورانشائیہ ہے۔انسان اپنی زندگی میں بہت ساری بیماریوں سے دوچار ہوتا ہے اور تکلیفیں برداشت کرتا ہے۔کچھ بیماریوں کا درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان کو اسے برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ایسا ہی ایک درد داڑھ کادرد ہے۔جو ناقابل برداشت ہے۔اسی داڑھ کے درد کو دھیان میں رکھتے ہوئے مجتبیٰ حسین نے اپنا یہ انشائیہ تحریرکیا ہے۔اس انشائیہ میں جہاں اس درد سے پیدا ہونے والی ذہنی وجسمانی کیفیات کا انوکھے انداز میں ذکر کیا گیا ہے وہیں پر اس سے ہونے والی پریشانیوں کوبھی شگفتہ انداز میں بیان کیا ہے۔اس انشائیہ کایہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

جب داڑھ کا درد اپنی حدوں کوپھلانگ کر کائنات کی وسعتوں میں پھیلنے کی کوشش کرنے لگتا ہے تو آدمی اس درد کی وسعت کے آگے ایک ادنیٰ سا ذرہ معلوم ہونے لگتا ہے۔جب پہلے پہل ہمارے سیدھے جبڑے والی داڑھ کا درد حدسے سوا ہوگیااورہم سیدھی جانب زیادہ جھکائو محسوس کرنے لگے تو اس عدم توازن کے احساس نے ہم میں بڑی بے چینی پیدا کردی۔آئینہ میں صورت دیکھی توپتہ چلا کہ آئینہ میں ہماری جگہ ایک بھوت کھڑا ہے۔ہم گھبراکر فوراًدانتوں کے ایک ڈاکٹر کے پاس بھاگے وہ ہمیں پہلے سے جانتے تھے لیکن داڑھ کے درد کے ساتھ انھوں نے ہمیں پہچاننے سے انکار کردیا۔ہم نے اس بات کی شکایت کی توبولے’’بھائی صاحب!داڑھ کے درد کے بعد آدمی کی پہچان بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔مجھے تو اپنے سارے ہی مریض’’ہم شکل ‘‘نظرآتے ہیں۔کس کس کوکہاں تک پہچانوں۔‘‘یوں بھی آپ کے سامنے اگربہت ساری ڈبل روٹیاں ایک ساتھ رکھ دی جائیں تو آپ ان ڈبل روٹیوں کو کیسے پہچانیں گے یہ ڈبل روٹی زیدہے اور وہ ڈبل روٹی بکر ہے۔داڑھ کے درد کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ آدمی کے چہرے کودیکھئے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آدمی کا چہرہ ڈبل روٹی بنانے کی مشین سے ڈھل کر نکلا ہے۔‘‘
مجتبیٰ حسین کے مضامین میں بے رغبتی کا احساس نہیں ہوتا ہے اس میں آذاد فضا ملتی ہے دلنواز رنگینی اور خوبصورتی ملتی ہے اپنے منفرد انداز سے وہ تحریر میں مسرت آمیز ماحول پیدا کردیتے ان کی اہم تصنیفات میں تکلف برطرف 1968' قطع کلام 1969'قصہ مختصر 1972' بہرحال 1974' آدمی نامہ 1981'   بالاآخر 1982 '   جاپان چلو جاپان چلو 1983'  الغرض 1987' سوہے وہ بھی آدمی 1987' چہرہ در چہرہ 1993' سفر لخت لخت 1995' آخرکار 1997' ہوے ہم دوست جس کے 1999 ' میرا کالم 1999' مجتبیٰ حسین کے سفرنامے 2003 شامل ہیں۔
مجتبیٰ حسین نے اپنے مضامین میں تشبیہات واستعارات کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ان کی تشبیہات میں بڑی تازگی اور انفرادیت ہوتی ہے۔۔ مجتبیٰ حسین کے اب تک کے تحریر کردہ تمام پر لطف سفرناموں (جاپان، یوروپ، سابق سوویت یونین، مسقط، سعودی عرب، دوبئی اور امریکہ) کو حسن چشتی (شکاگو، امریکہ) نے 'سفرناموں کی کلیات' کی صورت میں مرتب کیا ہے۔
مجتبیٰ حسین ملک میں طنز و مزاح کے پہلے ادیب تھے جن کو مرکزی حکومت نے بحیثیت مزاح نگار باوقار اعزاز پدم شری سے نوازا۔ اسکے علاوہ دیگر اعزازات :
اڑیہ ادیبوں کی تنظیم سرس ساہتیہ سمیتی۔کٹک کی جانب سے" ساہتیہ رتن " کا خطاب 1980
غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کا پہلا غالب ایوارڈ برائے " اردو طنز و مزاح " 1984
ایوارڈ برائے " تخلیقی نثر  " اردو اکادمی' دہلی ۔ 1990
کل ہند مخدوم محی الدین ادبی  ایوارڈ۔ آندھراپردیش اردو  اکادمی۔ 1993
کل ہند کنور مہندر سنگھ بیدی ایوارڈ برائے "۔ اردو طنز و مزاح " ہریانہ اردو اکادمی ۔1999
کل ہند ایوارڈ برائے " مجموعی خدمات " کرناٹک اردو اکادمی ۔ 2002
اس کے علاوہ تمام تصانیف کو مختلف اکادمیوں کی جانب سے ایوارڈ مل چکے ہیں۔
 مجتبیٰ حسین کے مضامین پر مشتمل 22 سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی 7 کتابیں ہندی زبان میں شائع ہوئیں۔ جاپانی اور اڑیہ زبان میں بھی ایک ایک کتاب شائع کی گئی۔


اے گردش ایام ہمیں رنج بہت ہے
کچھ لوگ تھے ایسے کہ جو کھونے کے نہیں تھے

   کوثر حیات
   اورنگ آباد
khwaja.kauser@gmail.com

Quiz Competition-COVID-19

MEYAAR ASSOCIATION 
Organised
Quiz Competiton 
on 
Covid-19 Awareness




Saturday, June 6, 2020

Art Work - Deepti V Barwal

Art Work Videos For Students






Art Work Videos Made By Deepti Vikram Barwal (Drawing Teacher MCGM)
Video Uploaded With Certain Permissions
Copying Content From this website is Prohibited
And Such Persons will liable for neccessary action under Copy Right Act 1957