Sunday, June 13, 2021

Jeena Isi Ka Naam Hai by Zeenat Jabeen


 جینااسی کا نام ہے

زینت جبین 


کافی رات گئے وہ گھر آیا تھا۔اُسے خالی ہاتھ دیکھ کر بانو کا دل کرچی کرچی ہو رہا تھا۔ 

آپ بچ٘وں کے کپڑے نہیں لاۓ۔آج آپ کو پیسے ملنے والے تھے۔بانو کے لہجے میں شکایت در آئی تھی۔

وہ تھکا سا فرش پر بیٹھ گیا۔ 

آج بھی کام مکمل نہیں ہوا۔مالک کا کہنا ہے۔جب تک کام پورا نہیں ہوتا۔پیسے نہیں ملیں گے۔حامدنے اپنا سر دیوار سےٹیک کر۔آنکھیں بند کر لی۔ 

مگر بچے یہ سب نہیں سمجھ پاتے۔اُنہیں تو عید کے لئے کپڑے چاہیے۔ اور کچھ نہیں۔بانو کی آواز آپ ہی تیز ہو گئی۔ 

دیکھو۔میری بات کو سمجھو۔حامد نے آنکھیں کھول کر بانو کو دیکھا۔جو اُسکے پاس ہی آ بیٹھی تھی۔ 

میں کوشش تو کر رہا ہوں۔مگر یہ بڑے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔حامد اپنی جگہ کافی پریشان تھا۔ 

تم اُن لوگوں کو سمجھا کر۔اپنی محنت کے پیسے نہیں وصول کر سکتے۔تو میں اِن تین بچ٘وں کو کیسے سمجھاؤں۔جو ہر صبح اُٹھ کر سب سے پہلے سوال یہی کرتے ہیں۔کہ اب٘و عید کے کپڑے لاۓ یا نہیں۔ اور میں... میں اُن کو جواب دیتے تھک جاتی ہوں۔بانو کی آنکھیں گیلی ہو رہی تھی۔ 

دیکھ۔چپ رہو۔کل میں کام پورا کرکے آؤں گا۔اور دیکھنا۔میں بچ٘وں کے لئے کپڑے بھی لیتا آؤں گا۔اب تم جلدی سے کھانا نکالو۔مجھے بھوک لگی ہے۔حامد اُٹھ کر ہاتھ منھ دھونے چلا گیا۔بانو آنکھیں صاف کرتی اُٹھ کر کھانا نکالنے لگئ۔

حامد جب واپس آیا۔بانو کھانا نکال چکی تھی۔وہ آرام سے بیٹھ کر کھانے لگا۔

بانو قریب ہی بیٹھ گئی۔ 

بانو۔کل ایسا کرنا۔تم بچ٘وں کو ساتھ لیکر بازار آجانا۔ میں کام ختم ہوتے ہی وہاں پہنچ جاؤں گا۔پھر بچ٘وں کے کپڑےاورعید کے دیگر سامان خرید کر ہم سب ساتھ ہی گھر آجائیں گے۔کھانا کھاتے ہوئے حامد نے دوسرے دن کاپروگرام بتایا۔ تو بانو کے چہرے پر بڑی خوبصورت سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ 

اُنکی شادی کو بارہ سال ہو چکے تھے۔بڑی بیٹی دس سال کی تھی۔اور دونوں بیٹے اُس سے چھوٹے تھے۔بچپن اُن پر خوب سج سنور کر آیا تھا۔روز کی تو خیر کوئی بات نہیں۔اُوپر والے نے پیٹ بنایا تھا تو اُسے بھرنے کے لئے کھانا دے ہی رہا تھا۔مگر یہ عید کا موقع۔ اور بچ٘وں کے کپڑے کی فرمائش۔جان مار رہی تھی۔بانو اُنہیں سمجھا کر تھک چکی تھی۔مگر بچے مان نہیں رہے تھے۔بانو کیا کرتی۔بچ٘وں کی باتیں شوہر کو بتا کر اپنی پریشانی کم کرنا چاہتی تو شوہر کی باتیں سُن کر۔ اور پریشان ہو جایا کرتی۔حامد زنگ و روغن کا کام کرتا تھا۔عید کا موقع تھا۔اُسے ایک جگہ کام مل گیا تھا۔اُس مکان کے مالک کا کہنا تھا۔جب تک کام مکمل نہیں ہوجاتا۔پیسے نہیں ملیں گے۔وہ ہر روز یہ سوچ کر کام پر جاتا کہ آج کام پورا کر آؤں گا۔مگر کام پورا ہی نہیں ہو رہا تھا۔ 

صبح حامد جلد اُٹھ کر کام پر چلا گیا۔بانو اُٹھ کر ناشتہ بنا رہی تھی۔جب فرمان نے آنکھ کھلتے ہی اپنا سوال دہرایا تھا۔

نہیں بیٹے کل پیسے نہیں ملے تھے۔آج تم سب شام کو میرے ساتھ بازار چلو گۓ۔تمہارے اب٘و تم لوگوں کے لئے کپڑے خرید دیں گے۔ 

بانو روٹی توے پرڈال کر فرمان کو سمجھائی۔ 

اور وہ کپڑے کی بات سن کر خوشی سے اچھل پڑا۔ 

اُسے خوش دیکھ کر بانو کے لب آپ ہی آپ مسکرانے لگے۔ 

فرمان نے عمران اور نازلی کو بھی اُٹھا دیا۔اور اب تینوں بچے بانو کے گرد آکر اپنے کپڑوں کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔بچ٘وں کے ناشتہ کر لینے کے بعد بانو گھر کے کاموں میں لگ گئی۔آج بچ٘ے آپس میں اتنے خوش لگ رہے تھے جیسے نئے کپڑے آنے کی خوشی میں عید ہفتہ بھر پہلے ہی اُسکے گھر اتر آئی ہو۔ 

امی اور کتنا وقت بچا ہے بازار جانے میں۔دونوں بیٹوں نے کئی بار یہ سوال کیا تھا۔اور بانو ابھی وقت ہے۔ کہتی اپنے کاموں میں لگ جاتی۔ 

امی اور کتنا وقت بچا ہے۔فرمان نے لاڈ سے پوچھا۔ 

ابھی وقت ہے۔تم سب سو جاؤ۔رات کپڑے خریدنے میں دیر ہو جائے گی۔بانو کپڑے دھوتی ہوئی بولی۔ 

میں رات میں بھی نہیں سوؤں گا۔عمران بانو کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے بولا۔

کس لئے بھلا۔بانو حیرانی سے اُسے دیکھی۔ 

اپنے کپڑے دیکھتا رہوں گا۔عمران کے معصومیت سے کہنے پر۔بانو کی آنکھیں پھر آئی۔ 

میرابچ٘ہ۔بانو نے کپڑا چھوڑ کر عمران کو سینے سے لگا کر رو پڑی۔ 

کاش میرے پاس اتنے پیسے ہوتے کہ میں تمہارے آگے کپڑوں کا ڈھیر لگا سکتی۔بانو روتی ہوئی بولی۔ماں کے رونے کی آواز پر نازلی اور فرمان جو پاس ہی بیٹھے اُن دونوں کی باتیں سن رہے تھے۔اٹھ کر انکے قریب آکر کھڑے ہو گۓ۔ 

فرمان۔ امی کو پریشان مت کرؤ۔امی کے پاس پیسے نہیں ہیں۔اگر ہوتے تو امی ہم لوگوں کو بہت سارےکپڑے خرید دیتیں۔مگر افسوس..... نازلی چپ ہوگئی۔ 

تو کیا کپڑے پیسے سے ملتے ہیں؟ عمران کے سوال پر بانو نے اس کی پیشانی چوم لی۔پھر پیار سے بولی۔ 

کپڑے ہی نہیں۔ دنیا کی ہر چیز پیسوں سے ملتی ہے۔اور ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔بانو ایک سردآ بھر کر اپنے تینوں بچ٘وں کو دیکھی۔

تو نازلی۔ امی کو کپڑے دھونے دو کہتی دونوں بھائیوں کے ہاتھ پکڑے۔آنگن سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔بانودوبارہ کپڑے دھونےمیں مشغول ہوگئی۔ 

شام وہ بچ٘وں کو تیار کر کے گھر سے نکلنے ہی والی تھی کہ باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔

نازلی دوڑ کر باہر آئی۔ 

کون ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتی بانو بھی دروازے تک آئی تھی۔ 

نازلی کے پاس کھڑا شخص کہہ رہا تھا۔امی کو بلاؤ۔ 

جی کیا بات ہے۔بانو نے پردے کے پیچھے سے پوچھا۔ 

تمہارے شوہر کی آنکھوں میں گرم گرم چونا پڑگیا ہے۔ اُسے کافی تکلیف ہے۔اُس نے مجھے کہا تھا کہ یہ خبر تم تک پہنچادوں۔ورنہ تم پریشان ہوتی رہو گی۔

حامد اپنی آنکھوں کی دوا کے لئے سرکاری ہوسپیٹل گیا ہے۔ بچ٘وں کو لے کر تمہیں ہوسپیٹل بلایا ہے۔وہ شخص اپنی بات ختم کر کے واپس چلا گیا۔ 

بانو بےحد گھبرا گئی۔اُسے لگا۔جیسے اُسکے بچ٘وں کے خواب ٹوٹ رہے ہوں۔اُس نے جلدی سے دروازے میں تالا لگایا اور بچ٘وں کو لیکر نکل پڑی۔دونوں بچے ہنسی خوشی اُسکے ساتھ چل رہے تھے۔بچ٘وں کے اندر نئے کپڑے کی للک تھی۔اُنکے پیر خوشی خوشی بڑھ رہے تھے۔جبکہ بانو سوچ رہی تھی۔پتا نہیں کام ختم بھی ہوا تھا یا نہیں۔دوا میں کتنے پیسے لگیں گے۔وہ اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ بچ٘وں کو بتاتی کہ وہ کپڑے لینے بازار نہیں ہوسپیٹل جا رہی ہے۔

امی یہ تو ہوسپیٹل ہے۔ہمیں تو بازار جانا تھا۔عمران ہوسپیٹل پہنچ کر حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔

بانو چپ رہی۔ کیا کہتی۔ 

ابو کی آنکھوں میں چونا پڑگیا ہے۔ابو ڈاکٹر کو دیکھانے آۓ ہیں۔ڈاکٹر کو دیکھانے کے بعد ہم سب بازار جائیں گے۔بانو کو چپ دیکھ کر نازلی نے بھائی کو سمجھایا۔تو وہ پھر سے خوشی خوشی چلنے لگا۔ 

ہوسپیٹل کے او پی ڈی میں اُن لوگوں کو حامد مل گیا۔اُس کی آنکھوں سے پانی گر رہا تھا۔جسے حامد ور مال سے پوچھ رہا تھا۔اُس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔تکلیف سے وہ پریشان تھا۔بچ٘وں کو دیکھکر شرمندہ ہو رہا تھا۔جبکہ بچے اُسے ایسی حالت میں دیکھ کر چپ سے ہوگۓ تھے۔انکی خوشی گم ہو گئی تھی۔ 

آپ کو ایسی حالت میں دیکھ کر۔سمجھ نہیں آرہا کیا کرؤں۔بانو کی آواز بھر٘ا گئی۔ 

تم بچ٘وں کو لیکر یہیں روکو۔میں آنکھیں دیکھا کر آتا ہوں۔پھر بازار چلیں گے۔حامد بانو کی باتوں کو نظرانداز کرتا ہوا بولا۔ 

مگر آپ کو تو کافی تکلیف ہے۔نازلی پریشانی سے بولی۔ 

میری تکلیف۔تم لوگوں کی خوشیوں سے کم ہو جائے گی۔حامد نے پیار سے نازلی کے سر پر ہاتھ رکھا۔

کام ختم ہو گیا تھا کیا۔بانو کے اس سوال پر حامد ہنس کر بول پڑا۔ 

نہیں کام تو ختم نہیں ہوا۔مگر چونا پڑ جانے سے مالک نے میری مزدوری کے ساتھ ہزار روپے بڑھا کر دیا ہے۔کل ملا کر پانچ ہزار روپے ہیں۔اِن پیسوں کو تم اپنے پاس رکھو۔میں آنکھیں چیک کروا کر ابھی آتا ہوں۔حامد نے جیب سے پیسے نکال کر بانو کو پکڑیااور سامنے والی کیبن  میں داخل ہو گیا۔ 

کافی دیر بعد بھی جب حامد کیبن سے باہر  نہیں نکلا تو بانو بچ٘وں کو لیکر کیبن میں آگئی۔ان سبھوں نے دیکھا۔حامد سامنے بیڈ پر چیت لیٹا تھا۔اور ڈاکٹر صاحب اُس پر چھک کر آنکھوں کو روئی سے صاف کر رہے تھے۔

کیا ہوا ہے ڈاکٹر۔بانو بے چین ہو کر پوچھی۔ 

بچ٘ے سہمے سے کھڑے تھے۔

تم اس کی وائف ہو۔ڈاکٹر صاحب حامد کو چھوڑ کر بانو کی طرف پلٹے۔ 

ہاں جی..... بانو کی آواز روندھ گئی۔ 

گھبرانے کی بات نہیں ہے۔مگر ابھی اِسے آرام کی ضرورت ہے۔ہفتہ پھر میں ٹھیک ہو جائے گا۔اب تم جلدی سے یہ دوائیں خرید لاؤ۔وہ تو اس نے اچھا کیا۔ جو فوراً یہاں چلا آیا۔ورنہ اس کی آنکھیں خراب ہو جاتیں۔ڈاکٹر نے ٹیبل سے پرچی اُٹھا کر بانو کو پکڑا دیا۔

کتنے میں آئیں گی یہ دوائیں۔وہ پرچی لیے پوچھ رہی تھی۔

یہی کوئی تین ساڑھے تین ہزار روپے کی۔اب تم جلدی سے جاؤ۔ڈاکٹر صاحب واپس حامد کے پاس جاتے ہوۓ بولے۔

بانو نے ایک نظر حامد پر ڈالی۔جس نے اپنا ہونٹ بھینچ رکھا تھا۔پھر اُس نے ہاتھ میں دھرے نوٹوں کو دیکھا۔پانچ ہزار روپے۔بچ٘وں کے نئے کپڑے اور عید کے لئے تھے۔اب ان پیسوں سے دوائیاں اور ہفتےپھر کا راشن لانا تھا۔وہ لاچاری سے اپنے بچ٘وں کی طرف دیکھنے لگی۔آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔ 

امی ہم لوگوں کو کپڑے نہیں ابو کی ضرورت ہے۔نازلی  مسکرا کر بولی۔ساتھ ہی دونوں معصوم سے بچے اثبات میں سر ہلا رہے تھے۔بانو ان سب کو آغوش میں بھر لی۔آنسو قطرہ قطرہ گر رہا تھا۔

بانو اُن سب کو ساتھ لیے میڈیکل کی طرف جانے لگی۔بچ٘ے اب بھی خوش تھے۔

اب بھی ان بچ٘وں کے پاؤں خوشی خوشی بڑھ رہے تھے۔ 

ختم شد


زینت جبین صدیقی

Zeenat jabeen siddiqui

H/no.32

Road no 15 (west) 

Old purulia road. 

Zakir nagar. 

Mango. 

Jamshedpur. 

Jharkhand. 

Mobile no.8340674242

Friday, June 11, 2021

Sawan Ke Mahine by Josh Malihabadi

 


ساون کے مہینے

جوشؔ ملیح آبادی

 

فردوس بنائے ہوئے ساون کے مہینے

اک گل رخ و نسریں بدن و سرو سہی نے

 

ماتھے پہ ادھر کاکل ژولیدہ کی لہریں

گردوں پہ ادھر ابر خراماں کے سفینے

 

مینہ جتنا برستا تھا سر دامن کہسار

اتنے ہی زمیں اپنی اگلتی تھی دفینے

 

اللہ رے یہ فرمان کہ اس مست ہوا میں

ہم منہ سے نہ بولیں گے اگر پی نہ کسی نے

 

وہ مونس و غم خوار تھا جس کے لیے برسوں

مانگی تھیں دعائیں مرے آغوش تہی نے

 

گل ریز تھے ساحل کے لچکتے ہوئے پودے

گل رنگ تھے تالاب کے ترشے ہوئے زینے

 

بارش تھی لگاتار تو یوں گرد تھی مفقود

جس طرح مئے ناب سے دھل جاتے ہیں سینے

 

دم بھر کو بھی تھمتی تھیں اگر سرد ہوائیں

آتے تھے جوانی کو پسینے پہ پسینے

 

بھر دی تھی چٹانوں میں بھی غنچوں کی سی نرمی

اک فتنۂ کونین کی نازک بدنی نے

 

گیتی سے ابلتے تھے تمنا کے سلیقے

گردوں سے برستے تھے محبت کے قرینے

 

کیا دل کی تمناؤں کو مربوط کیا تھا

سبزے پہ چمکتی ہوئی ساون کی جھڑی نے

 

بدلی تھی فلک پر کہ جنوں خیز جوانی

بوندیں تھیں زمیں پر کہ انگوٹھی کے نگینے

 

شاخوں پہ پرندے تھے جھٹکتے ہوئے شہ پر

نہروں میں بطیں اپنے ابھارے ہوئے سینے

 

اس فصل میں اس درجہ رہا بے خود و سرشار

میخانے سے باہر مجھے دیکھا نہ کسی نے

 

کیا لمحۂ فانی تھا کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا

دی کتنی ہی آواز حیات ابدی نے

Sunday, May 23, 2021

'Khuda Sab Dekh Raha Hai' by Khan Farheen Rifat


خدا سب دیکھ رہا ہے



        

 عصر کی اذان سُن کر نورعالم گھر سے نکلا اور مسجد کی طرف چل پڑا۔ گلی کے کونے سے مڑتے ہوئے اُسکے کانوں میں اک آواز ٹکرائی، "اِس لاک ڈاؤن میں کوئی نوکری بھی نہیں دے رہا کہاں سے لاؤں پیسے، بنا سحری کے روزہ تو رکھ لیا مگر افطاری کہاں سے لاؤں؟" گلی کے کونے میں ایک بوسیدہ مکان تھا۔ اس میں ایک غریب میاں بیوی رہتے تھے یہ آواز اُنہی کے گھر سے آ رہی تھی۔ پھر اس کی بیوی نے کہا،" کورونا کی وجہ سے اب لوگ گھروں میں کام نہیں کرواتے ورنہ میں ہی کُچھ کرتی۔" نورعالم نے اُن دونوں کی باتیں سنی اور آگے بڑھ گیا۔ لیکن اُس کے کانوں میں بار بار ان کی باتیں گونج رہی تھیں۔ وہ نماز پڑھ کر واپس آیا اور سیدھا اپنے کمرے میں گیا، اور سارا جمع کیا ہوا پیسہ جو اُس نے نیا سیل فون خریدنے کے لئے جمع کیا تھا،سارا پیسہ اپنی رومال میں باندھا اور گھر سے نکل گیا۔ اُس نے بازار سے کُچھ افطاری کا سامان خریدا اور اُن کے گھر آکر دروازے پر دستک دی۔ ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے دروازہ کھولا۔ نورعالم نے کہا۔ "یہ افطاری کے کُچھ سامان اور چند پیسے رکھ لیجئے۔" وہ آدمی جھکجھکاتے ہوئے بولا،" آپ کون اور یہ سب کی کیا ضرورت تھی۔" نورعالم نے کہا،" میں اِس گلی کے آگے اُس مکان میں رہتا ہوں،آپ کا پڑوسی، اور مسلمان،مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اِس لحاظ سے آپ کا بھائی بھی ہوں۔" وہ آدمی ذرا سا مسکرایا اور شکریہ ادا کرکے اسے دعائيں دینے لگا اور خدا کا شکر ادا کرکے گھر میں چلا گیا۔

 جب وہ پیسے لے کر گھر سے نکل رہا تھا تبھی بڑے بھائی نے اسکا تعاقب کیا اور جب انہوں نے یہ دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ جب گھر میں یہ بات بتائی تو امّی کو اپنے بیٹے اور بہت ناز ہوا اور ابّو کا سر فخر سے اونچا ہوگیا کہ کسطرح سے خاموشی سے انکے بیٹے نے ایک ضرورت مند کی مدد کی اور انسانیت اور ہمدردی کا جذبہ دکھایا۔

  " مدد کیجئے، ضرورت مندوں کی، غریبوں کی،اور سب سے بڑھ کر اُن لوگوں کی جو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے شرمندہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خاموشی سے مدد کیجئے کیوں کہ" خدا سب دیکھ رہا ہے۔"

 

✍🏻 خان فرحین رفعت

      ممبئی

 

Thursday, May 20, 2021

Latest Article by Iftekharuddin Anjum, Pakistan

 *برصغیر کی دونوں ایٹمی طاقتیں کرونا کے آگے بے بس کیوں؟؟

تحریر:  افتخار الدین انجم


Email: iftikharuddin467@gmail.com



برصغیر جو بعد تقسیم ہندوستان و پاکستان بن گیا ہر طرح کے قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال خطے ہیں مگر بدقسمتی سے دونوں ممالک کی عوام کو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک جو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ان دونوں ممالک کے انفرادی رقبے کے عشرہ عشیر بھی نہیں اپنی جی ڈی پی اور فی کس آمدنی میں ان دونوں ممالک سے کئی گنا آگے ہیں۔ بیلجیم، ناروے،آئرلینڈ، ہالینڈ جیسے کئی ممالک جو ہندوستان اور پاکستان کے ایک صوبے کے برابر بھی آبادی و رقبہ نہیں رکھتے مگر ترقی کے میدان میں ان دونوں ممالک سے کوسوں آگے ہیں اور کئی گناہ زیادہ معاشی طور پر مستحکم ہیں۔

جبکہ وسائل کی بات کی جائے تو وسائل میں ان دونوں ممالک کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔کسی ملک کے پاس اپنی ذاتی بندرگاہ نہیں تو کسی کو گرم پانیوں میں دسترس نہیں تو کسی کے پاس سال بھر میں صرف دو ہی موسم ہوتے ہیں اور کئی ممالک ایسے بھی ہیں دنیا میں جن کے پاس اپنی آرمی تک موجود نہیں۔مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہندوستان جسے برصغیر کے زمانے میں یعنی تقسیم سے پہلے وسائل کے لحاظ سے سونے کی چڑیا کے نام سے مغرب موسوم کیا جاتا تھا۔کیا آپ نے سوچا تقسیم کے بعد وہ سونے کی چڑیا کہاں اڑ گئی؟ یقینا انہیں دونوں ممالک میں بٹ گئی انہیں دونوں ممالک کے پاس ہے وہ سونے کی چڑیا آج بھی ہماری زمینیں دنیا بھر میں سب سے بہترین اور زیادہ زرخیز تصور کی جاتی ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کا وسیع و عریض زرخیز میدانی علاقہ موجود ہے،ہمارے پاس جنگلات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

ہمارے پاس بہترین صحرا ہیں،ہمارے پاس گلیشرز اور بلند و بالا پہاڑوں کے ہمالیائی سلسلے ہیں،ہمارے پاس گرم پانی کی کئی بندرگاہیں ہیں۔ہمارے پاس ہر طرح کی معدنی دولت ہے مگر کیا وجہ ہے ہم آج بھی ترقی میں ان مفلوک الوسائل ممالک سے پیچھے ہیں جن کے پاس ہماری نسبت آدھے وسائل بھی نہیں کیا کبھی سوچا آپ نے؟

آئیے دیکھتے ہیں ہم کیوں غریب ہیں؟ جس ملک کے پاس اپنی عوام کے لیے پینے کو صاف پانی دینے کے وسائل نہیں وہ کروڑوں کا غوری بنا رہا ہے۔جس ملک کی آدھی سے زائد عوام کے پاس شوچالے(واش روم) نہیں وہ کئی ہزار کروڑ کا اگنی بنا رہا ہے۔جس ملک کا غریب اپنی چار بیٹیوں کو عید کے کپڑے مانگنے پر ندی برد کر رہا وہ کئی ارب کے جے ایف 17 تھنڈر بنا رہا ہے۔

جس ملک(ہندوستان) کے اعداد و شمار کے ادارے این سی آر بی کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق ہر روز 381 افراد خودکشی کرتے ہیں یعنی ہر چار منٹ بعد ایک شخص خودکشی کرتا اور وجہ کیا ہے غربت۔وہیں ملک کئی ارب ڈالر کے رافیل طیارے خرید رہا ہے۔کیا یہ المیہ نہیں ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے پاس آج کرونا سے لڑنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ پاکستان اور بھارت دنیا کی دو ایسی ایٹمی طاقتیں ہیں جن میں سے ایک کے پاس کرونا ویکسین نہیں ہے تو دوسرے کے پاس آکسیجن سلنڈرز مقفود ہیں جبکہ دونوں نے آخری مزائل تجربہ غالباً اسی ماہ کیا ہے۔معلوم یہ پڑا کہ ہماری ترجیحات میں انسانیت اور عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ انسانیت کی تباہی اور جنگ و جدل ہمارا مقصد اور نصب العین ہے

کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ ہم لوہے اور بارود پر یہ پیسہ خرچ کرنے کے بجائے اپنی اپنی عوام پر خرچ کریں 150 کروڑ لوگوں کو کب عقل آئے گی کہ ہم دونوں ملک اگر یہ پیسہ بارود پر لگانے کے بجائے اپنے لوگوں پر لگائیں تو ہم امریکہ، برطانیہ، چین اور روس جیسے ترقی یافتہ ممالک سے بھی ترقی میں کئی گنا آگے نکل سکتے ہیں دنیا بھر کی معاشی پالیسیوں کے آج ہم غلام بنے ہیں اگر ہم صرف یہ ایک فیصلہ کریں تو تمام دنیا کی معاشی پالیسیاں ہماری غلام بن سکتی ہیں۔

 پاکستان اور بھارت دنیا کی سب سے غریب ترین ایٹمی طاقتیں ہیں جو اپنے دفاع پر تو پیسہ پانی طرح بہائے جارہی ہیں مگر صحت و ترقی پر پیسہ ندارد۔صورتحال یہ ہے کہ ہم ایک میزائل کم کریں تو کئی گاؤں میں ہم اسی پیسے سے اسکول بنا سکتے ہیں۔ صرف ایک مزائل کے کم کرنے سے ذرا سوچیں!

ہم ایک رافیل کم کر کے کئی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنا سکتے ہیں صرف ایک رافیل کم کرنے سے ذرا سوچیں!۔ایک جے ایف 17 کم کر کے کئی دیہاتوں کو پانی مہیہ کر سکتے ہیں۔صرف ایک جے ایف 17 کم کرنے سے ذرا سوچیں!۔ ہم ایک ارجن ٹینک کم کر کے کئی ہزار شوچالے بنا سکتے ہیں۔صرف ایک ٹینک کم کرنے سے ذ را سوچیں! ہم دونوں ممالک کو من الحثیث القوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں بارود چاہیے یا قلم؟ہمیں ایک روشن مستقبل چاہیے یا جنگوں کی گھن گرج؟

 ہمیں دنیا پر اپنی معاشی برتری قائم کرنی ہے یا دنیا کی معاشی پالیسیز کے رحم و کرم پر رہنا؟ ہمیں دنیا بھر کے اسلحے کا خریدار بن کر انہیں نئی معاشی بلندیوں سے ہم کنار کرنا ہے یا ہمیں دنیا کے بہترین دماغ خرید کر اپنی سائنسی برتری اور معاشی طاقت کا لوہا منوانا ہے۔

کچھ لوگ ہندوستان اور پاکستان کشیدگی پر اپنی سیاسی دکان چمکاتے ہیں تو کچھ لوگ بھاری بجٹ لیکر اسلحے کے نام پر پر اپنا کمیشن بناتے ہیں جبکہ یہ لوگ چند سو یا چند ہزار ہی ہیں اور 150 کروڑ لوگوں کو گزشتہ 70 سال سے اسی مخمصے میں مبتلا کر رکھا ہے کہ پاکستان سب سے بڑا دشمن ہے،ہندوستان سب سے بڑا دشمن ہے اور ہم اپنے مستقبل سے بے خبر بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے جارہے ہیں۔پاکستان سب سے بڑا دشمن نہیں ہے بھوک سب سے بڑی دشمن ہے، غربت سب سے بڑی دشمن ہے۔ 

کیا آپ کا حق نہیں ہے کہ آپ کو بھی امریکہ اور دیگر ممالک کی طرح جب آپ بیمار ہوں تو آپ کی حکومت مفت علاج کروائے آپ گھر کے تمام اخراجات چلانے کے لیے تادمِ تندرستی وظیفہ مقرر کرے؟ کیا آپ کا حق نہیں ہے کہ جب آپ کا بیٹا ڈگریاں لینے کے بعد بھی بے روزگار رہے تو آپ کی حکومت دیگر ممالک کی طرح آپ کے بچے کی خوداری برقرار رکھتے ہوئے اسے سکالرشپ مقرر کرئے تاکہ وہ کہیں کوئی غلط کام یا کہیں اپنی عزت نفس کا سودا نہ کر بیٹھے؟

کیا آپ کا حق نہیں ہے کہ آپ اپنے بچوں کی شادیاں کروانے سے اگر غربت کی وجہ سے قاصر ہیں تو حکومت آپ کی معاونت کریں اور آپ کے اخراجات کا بوجھ اٹھائے؟کیا آپ کا حق نہیں ہے کہ آپ اگر اپنے ضعیف العمر والدین کا علاج نہ کر سکیں تو حکومت انکے علاج معالجہ کی ذمہ داری اٹھائے؟کیا آپ کا حق نہیں ہے کہ جب آپ کی نوکری چلی جائے یا آپ کا کاروبار بند ہو جائے تو آپ کے گھر کا خرچ حکومت چلائے؟

امریکہ، برطانیہ، چین،فرانس،روس جو آپ کو دھڑا دھڑ اسلحہ بیچ رہے ہیں ان سب ممالک میں اپنی عوام کو وہ یہ سب سہولیات دے رہیں۔مگر آپ کو یہ حق یہاں ملا؟نہیں؟وجہ؟ہم ابھی بارود خرید رہے ہیں۔ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا بارود یا قلم۔۔ بارود یا سائنس بارود یا ٹکنالوجی بارود یا عوام کی فلاح و بہبود؟

فیصلہ آپ کا؟  فیصلہ ہندوستان کا!  فیصلہ پاکستان کا!   فیصلہ عوام کا۔


……………………

Monday, May 17, 2021

Palestine, Oh Palestine!! by Moniba

Palestine, Oh Palestine!! 


There is this place
It’s called Palestine
It used to be pretty
And peaceful and lively
The people lived as they do
Everywhere else.

Then there came to be this place
It’s called Israel
Which is basically Palestine
But mercilessly occupied
It attacked Palestine
And took over most of its land.

So now in Palestine
Or what’s left of it
Where there used to be quaint houses
There’s just a lot of rubble
With broken and burnt doors, utensils and limbs
Jutting out from underneath.

Where there used to be bright smiles
That could light up the world
There now are tears,
burn marks and bloodied cuts
That can rend any human heart
Except those that are not human.

It is a war, not between states
Not between races, nor between fates
Nay, this is a bigger war, one of faith
At least, that is how it started
But now, it is between
human and non-human.

Tell me, please
Is it human to **** innocent people
For the sake of self, and the sake of  hate?
Is it human then also, to remain quiet
And watch such tyranny be?
It must also be human, to  point guns at 4 year olds.

And by this definition,
Humans of this world, humans that feel
Are not humans at all, because they care
And those that don’t, well
They’re humans at their prime
The most evolved of them all.

Israel, I salute you, a salute full of mock
At your utter humanity, and benevolence
Your bombs when they land
With the cheers of your people,
And your guns when they point
At 4-year old terrorists; surely they can ****.

Palestine, I stand with you, sincerely
Your children, your people, your land and your peace
Are my children, my people, my land and my peace
Their bombs when they land, make my prayers fiercer
Their guns when they shoot, make my eyes water
But know this, Palestinians, we are one.

So when they shoot you, I bleed
And when they bomb you, I ache
When they hurt you, I feel the pain
And when you cry for help, I pray
We are blood, we are one body
We are the Ummah, we will rise.

Until then we pray, we pray and we try
Dear Palestine, stay strong, stay firm…
Help shall come, in ways unimaginable
Do not weaken, and do not grieve
You will overcome them, if you are true believers

Allah has promised, and His promise he upholds.

~Moniba.
Special thanks to Hello Poetry. Com

'Bhook' by Khan Farheen Rifat

بھوک


     دو دن کی لگا تار بارش نے سارے گاؤں کو پریشان کر رکھا تھا۔ بوڑھے بابا کے گھر کی چھت ٹپ ،ٹپ، ٹپ، مسلسل ٹپک رہی تھی۔ کھانے کے سارے سامان تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ کچھ بچے کچے دال چاول ڈبّے میں پڑے ہوئے تھے۔ بوڑھے بابا اور اُن کی بیوی نے سوچا اسے پکا کر کھا لیا جائے، لیکن بارش کی وجہ سے لکڑیاں گیلی ہو چکی تھی اور جلانے کے قابل نہیں تھی۔ بھوک بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے سوچا کچّے ہی کھا لیے جائیں تاکہ بھوک کی شدت کم ہوجائے اور پیٹ میں تھوڑی راحت ہو جائے۔ لیکن بڑھاپے میں اُن کے دانت گر چکے تھے اور جو باقی بچے تھے وہ بھی کمزور ہو چکے تھے، سخت چیزیں کھانے میں اُنہیں پریشانی ہوتی۔ پھر بوڑھے بابا کی بیوی نے سوچا اسے پتھر پر پیس کر باریک کیا جائے پھر کھایا جائے لیکن ان بوڑھے ہاتھوں میں اتنا دم کہاں جو پیس سکے۔ بھوک کی شدت بڑھتی ہی گئی۔ پھر انھوں نے سوچا کہ اسے بارش کے پانی میں بھگو کر نرم کر لیا جائے پھر کھایا جائے۔ انہوں نے اناج بارش کے پانی میں بھگو دیا۔

رات بھر بھیگنے کے بعد اناج نرم ہو چُکے تھے، بارش بھی تھم گئی تھی، ہلکی ہلکی سورج کی روشنی اُن کی جھونپڑی کے چھت پر پڑ رہی تھی،لیکن،،، اس بھیگے ہوئے اناج کو کھانے والا کوئی نہیں تھا۔

گاؤں والوں نے اس بھیگے ہوئے اناج کو دور کہیں پہاڈی پر  پھنکوا دیا کیوں کہ گاؤں والوں کا یہ ماننا تھا کہ اسی کو کھا کر ان لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ لیکن یہ کسے پتا تھا کہ اُن کی موت کھا کر نہیں بلکہ " بھوک " سے ہوئی ہے۔


✍️ خان فرحین رفعت

Saturday, May 15, 2021

Main Ghazi Banjau'n Naa!! By Sarfaraz Bazmi

 مسجد اقصی کے تناظر میں یہ نظم  ملت کے معصوموں کی ترجمانی 


پیار سے کہدے چپکے سے ماں ! میں غازی بن جاؤں نا

______________________________________________


ارض    مقدس   ارض  مبارک   ذلت   خوردہ  پیر تلے 

کیا    دیکھوں آباد   سڑک     پر    اوراق    قرآن   جلے

کابل  سے    کشمیر  تلک   معصوموں   پر بندوق چلے

کیسے  دیکھوں خون  برستے   کیسے  دل  بہلاؤں  نا

پیار سے کہدے چپکے سے  ماں میں غازی بن جاؤں نا

               میں غازی بن جاؤں نا


ارض  حرم   للکار   رہی ہے و ارض مقدس   روتی ہے 

خون  کے  آنسو غیرت  مسلم مسجد اقصی روتی ہے 

حفظ  حرم  پر  مرنے   والی   ملت  بیضا   سوتی  ہے 

اپنے  گرم  لہو  سے  ملت   میں  احساس  جگاؤں  نا

ارمانوں کی دنیا چھوڑوں  سپنوں  کو  سمجھاؤں نا

پیار سے کہدے چپکے سے ماں میں غازی بن جاؤں نا

                  میں غازی بن جاؤں نا


وہ   ننھے  غازائی   بچے   شعب  ابی  طالب کے اسیر

مجرم  دنیا  دیکھ  رہی  ہے  بیت   الابیض کی زنجیر

لگنے  لگی  ہے   ساری  دنیا  پانچ  خداؤں   کی جاگیر

کیسے بھولوں کیسے کھیلوں کیسے میں سو جاؤں نا

توڑ  کے  اپنے سارے  کھلونے  ان کی مدد کو جاؤں نا

پیار سے کہدے چپکے سے ماں میں غازی بن جاؤں نا

                  میں غازی بن جاؤں نا


چیچن خوں سے سرخ جزیروں میں ویرانی چھائےگی

کابل  میں  کڑکی   بجلی  بیت  الابیض  تک  جائے گی

شعب  ابی   طالب  سے  گزر   کر   فتح  مکہ   آئے گی

ان شاء اللہ آئے  گی ماں    !     ان  شاء  اللہ  آئے   گی

اپنی  رگوں کے پاک  لہو  سے  جبر کی آگ  بجھاؤں نا 

پیار سے کہدے چپکے سے  ماں میں غازی بن جاؤں نا

                 میں غازی بن جاؤں نا


بارودوں  سے  جلتے  بدن  کی جب میدان سے بو آۓ

مظلوموں  کی  آہوں  سے  جب  عرش الٰہی  ہل جاۓ

معصوموں کی  جلتی لاشیں  دیکھ کے دھرتی تھراۓ

"خذهم اخذ عزيز"   کہہ کر   تو  سجدے میں گرجاۓ

سبز  پرندہ   بن   جاؤں  میں  جنت  کو   اڑ جاؤں  نا

پیار سے کہدے چپکے سے  ماں میں غازی بن جاؤں نا

                    میں غازی بن جاؤں نا


آنکھ  نہ  اپنی  بھرنے  دینا  لاش  مری  جب  گھر آئے

ٹکڑے  ٹکڑے  دیکھ کے مجھ کو جب تیرا دل  بھر آیے

میرے  لہو  کا  قطرہ  قطرہ  حفظ  حرم  کے   کام آئے

اس سے بڑھ کر اس دنیا  میں اور سعادت بھی کیا ہے 

خلد  بریں  سے  پست  زمیں  کو دیکھوں نا اتراؤں نا

پیار سے کہدے چپکے سے ماں میں غازی بن  جاؤں نا


                   سرفراز بزمی

                راجستھان بھارت

Wednesday, May 12, 2021

''IDENTITY CARD' by MEHMOOD DERVESH (Palestine): Urdu Translation by Hammad Niyazi, Lahor

شناخت نامہ
 
 
لکھو
!!
میں عرب ہوں
 
اور میرا شناختی نمبر پچاس ہزار ہے
 
میرے آٹھ بچے ہیں
 
اور  گرمیوں کے بعد  نواں ہوگا 
 
کیا تم غضبناک ہو گے؟
 
لکھو
 
میں عرب ہوں
 
میں ایک کان میں مزدوری کرتا ہوں
 
 ہمراہ دوست کارکنوں کے
 
آٹھ بچے ہیں میرے
 
مہیا کرتا ہوں میں انہیں
 
چٹانوں سے
 
 روٹی،لباس اور کتابیں 
 
میں منت سماجت نہیں کرتا تمہارے دروازوں پر
 
بھیک اکٹھی کرنے کے لیے
 
نہ خود کو زلیل کرتا ہوں
 
تمہارے ایوانوں کے چوکھٹ پر
 
تو کیا غضبناک ہو جاؤ گے تم؟
 
لکھو
 
میں عرب ہوں
 
میری ایک شناخت  ہے بغیر کسی نام کے
 
ضبط کیے ہوئے ہوں ایک سرزمین پر
 
خود کو طیش زدہ لوگوں کے درمیان
 
میری  جڑیں پھیل چکی تھیں
 
وقت کی  نمود اور قرن نمائی سے پہلے
 
زیتوں اور انناس کے بور اور سبزے کی دمیدگی سے قبل
 
میرا باپ ہاریوں کی قبیل سے ابھرا
 
طبقہ جلیل سے نہیں
 
 
اور میرا دادا دہقان تھا
 
نہ ٹھیک سے جنما نہ ٹھیک سے پلا
 
مجھے پڑھایا جاتا ہے سورج کا غرور
 
قرات سیکھنے سے پہلے
 
 میرا گھر ہے پہرےدار کے جھونپڑے کے مانند
 
بانس اور شاخچوں سے   تعمیر شدہ
 
کیا یہ تعارف کافی ہے تمہارے لیے؟
 
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے
 
لکھو
 
میں عرب ہوں
 
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات
 
اور وہ کھیت  جنہیں میں نے زرخیز رکھا
 
اپنی اولاد کے ساتھ
 
اور تم نے کچھ نہیں چھوڑا ہمارے لیے
 
ان چٹانوں کے سوا
 
تو کیا ریاست  قابض ہو جائے گی ان پر
 
جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے؟
 
خیر
!!
 سرنامے پر تحریر کر دو
 
میں عداوت نہیں کرتا
 
نہ مداخلت کرتا ہوں
 
لیکن جب مجھے بھوک لگی
 
تو میں نوچ کھاؤں گا غاصبوں کا ماس۔۔۔۔
 
آگاہ رہو
 
خبردار رہو
 
میری بھوک سے
 
اور میرے غصے کی تھوک سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
محمود درویش ؛ فلسطین
ترجمہ :حماد نیازی
 
 
''IDENTITY CARD'
 
Write down !
I am an Arab
And my identity card number is fifty thousand
I have eight children
And the ninth will come after a summer
Will you be angry?
.
Write down!
I am an Arab
Employed with fellow workers at a quarry
I have eight children
I get them bread
Garments and books
from the rocks..
I do not supplicate charity at your doors
Nor do I belittle myself at the footsteps of your chamber
So will you be angry?
.
Write down!
I am an Arab
I have a name without a title
Patient in a country
Where people are enraged
My roots
Were entrenched before the birth of time
And before the opening of the eras
Before the pines, and the olive trees
And before the grass grew.
My father.. descends from the family of the plow
Not from a privileged class
And my grandfather..was a farmer
Neither well-bred, nor well-born!
Teaches me the pride of the sun
Before teaching me how to read
And my house is like a watchman's hut
Made of branches and cane
Are you satisfied with my status?
I have a name without a title!
.
Write down!
I am an Arab
You have stolen the orchards of my ancestors
And the land which I cultivated
Along with my children
And you left nothing for us
Except for these rocks..
So will the State take them
As it has been said?!
.
Therefore!
Write down on the top of the first page:
I do not hate poeple
Nor do I encroach
But if I become hungry
The usurper's flesh will be my food
Beware..
Beware..
Of my hunger
 And my anger!
 
---------------
MEHMOOD DERVESH